ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھاشن سے پیٹ نہیں بھرتا،روٹی چاول سے بھرتاہے: سونیاگاندھی 

بھاشن سے پیٹ نہیں بھرتا،روٹی چاول سے بھرتاہے: سونیاگاندھی 

Wed, 09 May 2018 12:02:15    S.O. News Service

بیجاپور 8مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کانگریس پارٹی کی سابق صدر سونیا گاندھی آج خود کانگریس کا مورچہ سنبھالنے اتریں۔ انہوں نے براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ تقریروں سے ملک کا پیٹ نہیں بھرتا ہے اور نہ ہی روزگار ملتا ہے۔ سونیا نے بیجاپور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی پر کانگریس مکت بھارت کا جذبہ ہے، انہیں اس کا ماضی لگا ہے، کانگریس مکت بھارت تو چھوڑیئے، وہ اپنے سامنے کسی کو برداشت نہیں کر سکتے۔سونیا گاندھی نے کہا کہ مودی کو اس بات کا فخر ہے کہ وہ بہت اچھی تقریر کرتے ہیں۔ وہ ایک ایکٹر کی طرح ڈائیلاگ بولتے ہیں؛لیکن اگر ان کی تقریر سے ملک کا پیٹ بھر سکتا ہے تو ان کو چاہیے کہ اپنی فنی صلاحیت کا مزیج اظہار کریں ۔تاہم اتنا تو ضرور ہے کہ صرف تقریر سے تو پیٹ نہیں بھر سکتا، کسانوں کو راحت نہیں مل سکتی ہے اور نوجوانوں کو روزگار بھی نہیں مل سکتے ہیں۔ کرناٹک میں پہلی ریلی کی ،اس دوران انہوں نے مرکز کی نریندر مودی حکومت پر جم کر حملہ کیا اور سدامریا حکومت کی تعریف کی ہے ۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ سدارمیاحکومت نے 22 لاکھ کسانوں کا قرض معاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں پھل، سبزیاں اور مصالحہ جات کی سب سے بڑے برآمدکرنے والی ریاستوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ سونیا گاندھی نے انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف جہاں کانگریس ترقی کا کام کر رہی ہے وہیں، دوسری طرف مودی جی کا چار سال سے ایک ہی کام ہے کہ کانگریس نے جو بھی اچھا کام کیا اسے ختم کرناہے ۔ وہ کانگریس کے اچھے کام کو ختم کر رہے ہیں؛لیکن ہم نے جو بھی کام کئے ہیں وہ تاریخ کا ا یک حصہ ہے اور کوئی بھی دانش ور جس کو اپنی دانش مندی کا زعم ہے اس تاریخ کو مسخ نہیں کرسکتا ہے۔مودی کے سر میں کانگریس مکت بھارت کا سودا سمایا ہوا ہے ،ہم اس جذبہ کا احترام کرتے ہیں۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ مودی جی کو اس بات کا فخر ہے کہ وہ بہت اچھی تقریر کرتے ہیں، وہ ایک اداکار کی طرح ڈائیلاگ بولتے ہیں اگر ان کی تقریر سے ملک کا پیٹ بھر سکتا ہے تو وہ اور بھی تقریر دیں۔ لیکن ستم تو یہ ہے کہ اس سے ملک کا پیٹ نہیں بھر سکتا ؛بلکہ پیٹ بھرنے کے لیے دال چاول اور روٹی کی ضرورت ہوتی ہے ۔سونیا گاندھی نے کہا کہ آج مہنگائی آسمان چھو رہی ہے؛ لیکن ان سب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مودی حکومت مسلسل پٹرول، ڈیزل اور گھریلو گیس کی قیمت مسلسل بڑھارہی ہے ۔ ملک یہ دیکھ کر حیران ہے کہ پی ایم جہاں بھی جاتے ہیں غلط اور سراسر جھوٹ ہی بولتے ہیں ۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ کیا آپ نے کوئی ایسا وزیر اعظم دیکھا ہے جو حقیقی مسائل پر ہمیشہ خاموش رہتا ہو؟ انہوں نے پوچھا کہ عوام سے چار سال پہلے کئے وعدوں میں سے کون سا وعدہ پورا ہوا۔ ملک کے کسانوں کے لئے مودی نے کیا کیا۔ روزگار کے لئے کیا کیا مودی نے؟ خواتین ، اقلیت اور دلت کے لیے کیا کیا انہوں نے ؟کچھ نہیں صرف ہوابازی اور تقریر کی گئی ۔سونیا گاندھی تقریباً دو سال بعد انتخابی ریلی میں شامل ہوئی ہے اس سے قبل سونیا گاندھی نے سال 2016 میں وارانسی میں آخری بار روڈ شو کیا تھا ۔ 


Share: